Latest Article

header ads

9th_Biology_Chapter : 8



9th BIOLOGY             Chapter No 8            C h TAHIR RAFIQ


Ch Tahir Rafiq

Biology : 9th
CHAPTER NO. 8
نیوٹریشن (تغذیہ)
SHORT QUESTIONS & ANSWERS
نیوٹریشن سے کیا مراد ہے؟ اس کی اہمیت لکھیں۔
سوال :
نیوٹریشن:-
             : وہ تمام اعمال  جن میں خوراک، کھانا یا اس کو تیار کرنا اور گروتھ اور انرجی کیلئے جسمانی مادوں میں بدل دینا شامل ہیں، مجموعی طور پر تغذیہ  یعنی نیوٹریشن کہلاتے ہیں۔
جواب :-
نیوٹرینٹس کی تعریف بیان کریں۔
سوال :
نیوٹرینٹس :-
              :  ایسے ایلیمنٹس یا کمپاؤنڈز  جو کوئی جاندار حاصل کرتا ہے اور انہیں انرجی کے طور پر استعمال کرتا ہے یا نئے مٹیریلز میں تبدیل کرتا ہے، نیوٹرینٹس کہلاتے ہیں۔
جواب :-
منرل ایلیمنٹس سے کیا مرادہے؟
سوال :
پودوں کو افعال اور ساختوں کیلئے منرل ایلیمنتس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پودوں کے پاس آٹوٹرافک  نیوٹریشن کیلئے سب سے بہتر میکانزم موجود ہیں۔ پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی سے کاربن ، ہائیڈروجن اور آکسیجن لیتے ہیں۔
جواب :-
مائکرونیوٹرینٹس سے کیا مراد ہے؟
سوال :
مائکرونیوٹرینٹس :- ایسے ایلیمنٹس جن کی پودوں کو کم مقدار میں ضرورت ہوتی ہےمائکرونیوٹرینٹس کہلاتے ہیں۔ مثلاً آئرن، مولیبڈینم وغیرہ۔
جواب :-
میکرونیوٹرینٹس سے کیا مراد ہے؟
سوال :
میکرونیوٹرینٹس :-
 ایسے ایلیمنٹس جن کی پودوں کو بڑی مقدار میں ضرورت ہوتی ہےمیکرونیوٹرینٹس کہلاتے ہیں۔ مثلاً کاربن، ہائیڈروجن، آکسیجناور پوٹاشیم وغیرہ۔
جواب :-
نائٹریٹس اور میگنیشیم کی کمی پودوں کی گروتھ پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟
سوال :
نائٹریٹس اور میگنیشیم پودوں کی گروتھ کیلئے بہت ضروری ہے۔ نائٹروجن پودوں میں مختلف شکلوں میں پایا جاتا ہے، یہ پودے کی زندگی کیلئے لازمی کمپاؤنڈ مثلاً پروٹینز، نیوکلک ایسڈ، ہارمونز، کلوروفل اور اینزائمز کا اہم جزو ہے۔ نائٹروجن کے  مرکبات نائٹریٹس کہلاتے ہیں۔
جواب :-
نائٹریٹس اورنمیگنیشیم کے پودوں کی گرتھ پر کیا اثرات ہیں؟ بیان کریں۔
سوال :
پودوں کی گروتھ پر اثرات :-
1۔ پودے نائٹروجن کو نائٹریٹس کی شکل میں حاصل کرتے ہیں۔
2۔ نائٹروجن پودے کی زندگی کیلئے لازمی کمپاؤنڈ مثلاً  پروٹینز، نیوکلک ایسڈ، ہارمونز، کلوروفل اور اینزائمز کا اہم جزو ہے۔
3۔ تنے اور پتے کی گروتھ میں نائٹروجن پھل اور پھول بننے میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔
4۔ نائٹروجن کی کمی پیداوار کو کم کردیتی ہے۔
5۔ پتوں کے زرد ہونے اور گروتھ میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے۔
میگنیشیم :-
 میگنیشیم کلوروفل مالیکیول کی ساخت کا اہم جزو ہے۔ یہ کاربوہائیڈریٹس ، شوگرز اور فیٹس بنانے والے اینزائمز کے کام کرنے کے لئے بھی لازمی ہے۔
پودوں کی گروتھ پر اثرات :-
1۔ میگنیشیم پھل اور گری دار میوہ  بنانے میں استعمال ہوتا ہے اور بیچوں کے اُگنے کیلئے بھی لازم ہے۔
2۔ میگنیشیم کی کمی سے پودوں کے پتے زرد ہوجاتے ہیں اور مرجھا جاتے ہیں۔
جواب :-
فرٹیلائزرز کی تعریف لکھیں۔
سوال :
فرٹیلائزرز :- ایسے کیمیکل کمپاؤنڈز جو پودے کی تیز گروتھ اور مناسب نشو و نما کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں فرٹیلائزرز کہلاتے ہیں ۔
جواب :-
اِن۔آرگینک فرٹیلائزرز کی تعریف لکھیں۔
سوال :
اِن۔آرگینک فرٹیلائزرز:-
 ایسے فرٹیلائزرز جو اِن۔آرگینک ایلیمنٹس پر مشتمل ہوتے ہیں  اِن۔آرگینک فرٹیلائزرز کہلاتے ہیں۔ اِن۔آرگینک فرٹیلائزرز کی مختلف اقسام ہیں ۔ ان کا انحصار فرٹیلائزرز میں موجود اِن۔آرگینک ایلیمنٹس پر ہوتا ہے۔ سلفر، فاسفورس اور نائٹروجن پر مشتمل فرٹیلائزرز زیادہ اہم ہیں۔
جواب :-
اِن۔آرگینک فرٹیلائزرز کی خصوصیات لکھیں۔   
سوال :
اِن۔آرگینک فرٹیلائزرز کی خصوصیات :-
1۔ زیادہ تر   اِن۔آرگینک فرٹیلائزرز پانی میں حل پذیر ہیں۔
2۔ پانی میں حل پذیر ہونے کی وجہ سے پودے انہیں فوراً حاصل کرلیتے ہیں۔
جواب :-
آرگینک فرٹیلائزرز سے کیا مراد ہے؟
سوال :
آرگینک فرٹیلائزرز :- ایسے فرٹیلائزرز جو ایک یا  زیادہ ضروری ایلیمنٹس پر مشتمل ہوں اور پودوں اور جانوروں کے مادوں  سے حاصل کیے جاتے ہوں۔ آرگینک فرٹیلائزرز کہلاتے ہیں۔
 اہمیت :- 1۔ جانوروں کا فضلہ اور ملی جلی کھاد آرگینک فرٹیلائزرز کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
2۔ آرگینک فرٹیلائزرز مٹَی میں پانی کی نکاسی ، اس میں ہوا کا گزر  اور نیوٹرینٹس پر گرفت رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
جواب :-
غذا سے کیا مراد ہے؟
سوال :
غذا :- ایسے کیمیکل کمپاؤنڈز جو جاندار انرجی حاصل کرنے اور روزمرہ کاموں کیلئے استعمال کرتے ہیں ، غذا کہلاتی ہے۔
جواب :-
کاربوہائیڈریٹس پر نوٹ لکھیں۔
سوال :
کاربوہائیڈریٹس :-  کاربوہائیڈریٹس اہم غذائی اجزا اور انرجی کے بنیادی ذرائع ہیں۔
خصوصیات :- 1۔ ہر جاندار جتنی کیلریز  روزانہ  حاصل کرتا ہے اس کی آدھی سے دو تہائی تعداد کاربوہائیڈریٹس سے آتی ہے۔
2۔ گلوکوز وہ  کاربوہائیڈریٹس ہے جو انرجی حاصل کرنے کیلئے سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
3۔ کاربوہائیڈریٹس کی دیگر کارآمد اقسام مالٹوز، لیکٹوز، سکروز اور سٹارچ شامل ہیں۔
4۔ کاربوہائیڈریٹس کے ایک گرام میں چار کلو کیلریز  انرجی ہوتی ہے۔
ذرائع :- کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل خوراک کے اہم ذرائع درج ذیل ہیں۔
روٹی، سویوں کیلئے تیارکردہ آٹا، پھلیاں، آلو، بھوسی اور چاول وغیرہ۔
جواب :-
پروٹینز پر نوٹ لکھیں۔
سوال :
پروٹینز  :-
پروٹینز ایمائنوایسڈ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ 
خصوصیات :- 1۔ پروٹینز سائٹوپلازم ، ممبرینز اور آرگنیلیز کا اہم جزو ہیں۔
2۔ پروٹینز مسلز ، لگامنٹس اور ٹینڈنز کا بھی حصہ  ہوتی ہے۔ اس لئے ہم پروٹینز کو گروتھ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
3۔ پروٹینز این آئینز کے طور پر بھی کام کرتی ہیں ۔
4۔ پروٹینز انرجی کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ پروٹینز کی ایک گرام میں چا کلو کیلوریز ہوتی ہے۔
ذرائع :- پروٹینز کی غذائی ذرائع میں گوشت، انڈے، پھی دار پودے، دالیں، دودھ اور پنیر شامل ہیں۔
جواب :-
لپڈز پر نوٹ لکھیں۔
سوال :
لپڈز :-
 لپڈز اہم غذائی اجزا ہیں ۔ اور پودون اور جانوروں دونوں میں موجود ہوتے ہیں خوراک میں شاامل لپڈز گلیسرول کے ساتھ جڑے فیٹی ایسڈز پر مشتمل ہوتے ہیں لپڈز میں موجود فیٹی ایسڈز سیچوریٹڈز یا ان سیچوریٹڈز ہو سکتے ہیں۔
سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز :-
سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز میں تمام کاربن، ہائیڈروجن کے ساتھ بانڈ بنائے ہوتے ہیں۔ کمرہ کے ٹمپریچر پر سیچوریٹڈ لپڈز عموماً ٹھوس ہوتے ہیں۔
اَن۔ سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز :-
  اَن۔ سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز میں ڈبل بانڈز ہوتے ہیں ۔ جو کاربن ایٹمز ہائیڈروجن کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ بناتے ہیں ۔
2۔ کمرے کے ٹمپریچر پر ان۔ سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز والے لپڈز مائع حالت میں پائے جاتے ہیں۔
3۔ ان کو عام طور پر آئل کہا جاتا ہے۔ مثالیں: مکھن میں ستر فیصد سیچوریٹڈ اور تیس فیصد ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز ہوتے ہیں۔
ذرائع :- لپڈز کے اہم ذرائع میں دودھ ، مکھن، پنیر، انڈے، گوشت، مچھلی ، سرسوں کے بیچ، کوکونٹ اور خشک پھل شامل ہیں۔
جواب :-
منرلز سے کیا مراد ہے؟
سوال :
منرلز :- منرلز ایسے ان آرگینک ایلیمنٹس ہیں جو زمیں کے اندر بنتے ہیں اور انہیں جسم میں تیار نہیں کیا جاسکتا ۔ منرلز جسم میں بہت سے اہم افعال سرانجام دیتے ہیں۔
جواب :-
کیلشیم کے ذرائع اور کردار  بیان کریں۔
سوال :
کیلشیم ہمیں اناج ، سبز پتوں والی سبزیوں ، دودھ، انڈوں اور پھلوں سے حاصل ہوتا  ہے۔ اس کے علاوہ پینر ،پھلیوں ، نٹس اور گوبھی میں بھی موجود ہوتا ہے۔
کیلشیم  کا جسم میں کردار :-
1۔ ہڈیوں اور دانتوں کی ڈیویلپمنٹ اور انکی بقا کیلئے کیلشیم بہت ضروری ہے۔
2۔ یہ سیل ممبرینز اور کنیٹوٹشو کی بقا اور کئی انزائمز کو فعال بنانے کیلئے بھی ضروری ہے۔
3۔ کیلشیم خون کے جمنے یعنی گلاٹنگ میں بھی مدد دیتی ہے۔
کیلشیم کی کمی کے اثرات :- 1۔ کیلشیم کی کمی سے نروامپلس خود بخود جاری ہونے کی بیماری ہوسکتی ہے۔ جس کا نتیجہ ٹیٹنی ہوتا ہے۔
2۔ اسکی کمی  سے ہڈیاں بھی نرم پڑجاتی ہیں ۔
3۔ خون آہستہ جمتا ہے۔
4۔ زخم آہستہ مندمل ہوتا ہے۔
جواب :-
آئرن  کے ذرائع  کردار اور کمی کے اثرات بیان کریں۔
سوال :
آئرن کے ذرائع :- آئرن گوشت، گندم، مچھلی،پالک، سرسوں۔ انڈوں کی ذردی میں پایا جاتا ہے۔
 آئرن  کا جسم میں کردار :- 1۔ آئرن جسم میں آکسیجن کی ترسیل اور اسکے ذخیرہ کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
2۔ آئرن ریڈ بلڈسیلز میں ہیموگلوبن اور مسلز میں مائیوگلوبن کا اہم جزو ہے۔
3۔ سیلز میں انرجی پیدا کرنے کے عمل کو آئرن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اہم انزائمز کا کو فیکٹر ہے۔ 
 4۔ آئرن جسم کے مدافعتی نظام یعنی امیونسسٹم کو بھی مدد دیتا ہے۔
آئرن کی کمی کے اثرات :- 1۔ائرن کی کمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والی غذائی کمی میں سب سے زیادہ ہے۔
2۔ آئرن کی کمی اینیمیا کا باعث بنتی ہے۔ جس سے جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔
جواب :-
وٹامنز سے کیا مراد ہے؟
سوال :
وٹامنز :- وٹامنز ایسے کیمیائی کمپاؤنڈز ہیں جن کی جسم کو انتہائی  قلیل مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن وہ نارمل گروتھ اور میتابولزم کیلئے لازمی ہے۔
وٹامنز کی اقسام : - وٹامنز کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1۔ فیٹ سولیوبل وائٹامنز :- پیٹ سولیوبل چکنائی میں حل پذیر وائٹامنز میں  A D E اور  K    شامل ہیں۔
2۔ واٹر سولیوبل وائٹامنز :- واٹر سولیوبل پانی میں حل پذیر وائٹامنز میں وائٹامن بی کمپلیکس اور وائٹامن سی شامل ہیں۔
جواب :-
وائٹامنز کی اہمیت اور ذرائع لکھیں۔
سوال :
وائٹامنز کی اہمیت :- 1۔ یہ ایک پروٹین آپسن کے ساتھ ملتا ہے اور آنکھ کے ریٹینا راڈ سیلز میں روڈ وپسن بناتا ہے۔ جب وائٹامن اے کی کمی ہو تو روڈوپسن کم ہوجاتا ہے اور کم روشنی میں نظر آنا بند ہوجاتا ہے۔
2۔ وائٹامن اے سیلز کے مخصوص بن جانے کے عمل یعنی ڈفرینسی ایشن میں حصہ لیتا ہے۔ اس عمل میں ایمبریانک سیلز مخصوص افعال سرانجام دینے والے بالغ  سیلز میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
 3۔ یہ وائٹامن ری پروڈکشن کے عمال اور ہڈیوں کی گروتھ میں مدد دیتا ہے۔
4۔ یہ امیونٹی  کیلئے بہت ضروری ہے اور اسکی کمی سے بیماریوں کے خلاف مدافعت کم ہوجاتی ہے۔
وائٹامن کے ذرائع :- وائٹامن اے سبزیوں مثلاً پالک، گاجر، زرد یا نارنجی رنگ کے پھلوں مثلاً آم، جگر، مچھلی، انڈے، دودھ سے حاصل ہوتا ہے۔
جواب :-
آئرن کی کمی کے اثرات لکھیں۔
سوال :
آئرن کی کمی کے اثرات :- 1۔ اس کی کمی رات کااندھا پن یعنی  شب کوَری  کاباعث بنی ہے۔ یہ عارضی ہوتا ہے اگر اس کا علاج نی کیا جائے تو یہ مستقل اندھے پن کا باعث بن سکتی ہے۔
 2۔ اس کی کمی سے جِلد کے بالوں کے نیچے چھوٹی تھیلیاں یعنی ہیر فولیکلز کیراٹن سے بھر جاتی ہیں  اور جِلد خشک اور کھردری ہوجاتی ہے۔
جواب :-
وائٹامن  C یعنی ایسکاربک ایسڈ پر نوٹ لکھیں۔
سوال :
وائٹامن  C یعنی ایسکاربک ایسڈ :-
افعال :-  1۔ یہ وائٹامن بہت سے کیمیکل ری ایکشنز میں حصہ لیتا ہے۔
2۔ یہ ایک لیشہ دار پروٹین یعنی کولیجن کے بنانے کیلئے ضروری ہے۔ کولیجن کنیکٹو ٹشو کو مضبوطی دیتا ہے۔ زخموں کے بھرنے کیلئے بھی کولیجن ضروری ہے۔
3۔ وائٹ بلڈ سیلز میں وائٹامن C جسم کے امیون سسٹم کے افعال کیلئے ضروری ہے۔
کمی کے اثرات :- 1۔ اس کی کمی سے سارے جسم میں  کنیکٹیو ٹشو میں تبدیلیاں آجاتی ہیں ۔
2۔ اس کی کمی سے سکروی کی بیماری ہوتی ہے جس میں بہت غیر مستحکم کولیجن تیار ہوتا ہے۔
علامات :- سکروی کی علامات میں مسلز اور جوڑوں میں درد ، سوجے ہوئے اور خون رستے مسوڑھے، زخم کا آہستہ مندمل ہونا اور جِلد اور ہاتھوں کی خشکی شامل ہے۔
جواب :-
وائٹامن D پر نوٹ لکھیں۔
سوال :
وائٹامن D :-
افعال :- 1۔ وائٹامن D کا اہم کام خون میں کیلشیم اور فاسفورس کی مقدار کو کنٹرول کرنا ہے۔
2۔ وائٹامن D ان منرلز کی اینٹسٹائن سے ایبزارپشن اور ان کا ہڈیوں میں جمع ہونے کو بڑھاتا ہے۔
ذرائع :- یہ وائٹامن مچھلی کے جگر کے تیل ، دودھ، گھی اور مکھن میں پایا جاتا ہے۔ ہماری جِلد سورج کی روشنی کی موجودگی میں الٹراوائلٹ شعاعوں کو استعمال کرکے وائٹامن D میں تبدیل کر دیتی ہے۔
کمی کے اثروت :- 1۔ وائٹامن D کے لمبے عرصے تک کمی ہڈیوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ بچوں میں اسکی کمی سے رکٹس ہوجاتی ہے۔جس میں ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں اور دباؤ والی جگہ پر مڑ جاتی ہیں۔
2۔ بڑوں میں اسکی کمی اوسٹیومیلشیا  کا  باعث بنتی ہے ۔ اس میں ہڈیاں نرم ہوجاتی ہیں اور فریکچر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جواب :-
ڈائیٹری فائبر کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
سوال :
ڈائیٹری فائبر :- ڈائیٹری فائبر کو رفیج بھی کہتے ہیں۔ ڈائیٹری فائبر انسان کی خوراک کا وہ حصہ ہے  جو ڈائی جسٹ ہونے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ مواد صرف پودوں  پر مشتمل خوراک میں ہوتا ہے۔ یہ مواد ڈائی جسٹ ہوئے بغیر ہی معدے اور سمال انٹیسٹائن سے گزر کر کولون میں آجاتا ہے
جواب :-
ڈائیٹری فائبر کی اقسام بیان کریں۔
سوال :
ڈائیٹری فائبر کی اقسام :- ڈائیٹری فائبر کی دواقسام ہیں۔
1۔ سولیوبل ڈائیٹری فائبر :- سولیوبل ڈائیٹری فائبر ڈائی جیسٹونالی سے گزر کر ٹوٹ جاتاہے۔   سولیوبل فائبر کے ذریعے جئی کے دانے ، پھلیاں ، جَو اور کئی پھل اور سبزیاں  ہیں ۔
2۔ ان۔سولیوبل ڈائیٹری فائبر  :- ان۔سولیوبل فائبر سمال انٹسٹائن  سے تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ گندم کی بھوسی ، سالم اناج  کی روٹی اور کئی سنزیوں اور پھلوں کی جِلد (چھلکا) ان۔سولیوبل ڈائیٹری فائبر پر مشتمل ہوتی ہے۔
جواب :-
فائبر کے افعال لکھیں۔
سوال :
فائبر کے افعال :- 1۔  فائبر قبض سے بچاتا ہے اور اگر ہوتو اسے ختم کر دیتا ہے۔ 
2۔ یہ انٹسٹائن کے مسلز کو تحریک دیتا ہے اس کی دیواروں کے ساتھ لگ  کر فضلے کا گزرنا آسان بنا دیتا ہے۔
3۔ یہ جسم میں کیلریز کم ہونے کے احساس کو کم کردیتا ہے اور اس طرح وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
4۔ قبض کو روک کر یہ ہیمورائیڈز یعنی " اینس کے ٹشوز میں سوجن" ہونے سے بچاتا ہے۔
5۔ خون میں کولیسٹرول لیول کم کرتا ہے۔
6۔ سولیوبل فائبرسے خون میں شوگر کا لیول کم ہوتا ہے۔ 
جواب :-
متوازن غذا سے کیا مراد ہے؟
سوال :
متوزن غذا :-
              : متوازن غذا سے مراد ایسی غذا ہےجس سے جسم کی نارمل گروتھ اور ڈیویلپمنٹ کیلئے درکار تمام ضروری نیوٹرینٹس (کاربوہائیڈریٹس ، پروٹینز، لپڈز، منرلز، وائٹامنز) مناسب تناسب سے موجود ہوں۔
جواب :-
میل نیوٹریشن سے کیا مراد ہے؟
سوال :
میل نیوٹریشن سے مراد نیوٹریشن سے متعلق مسائل ہیں۔ میل نیوٹریشن کو عام طور پر  انڈرنیوٹریشن کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ جو ناکافی خوراک لینے سے ، خراب ایبزارپشن سے یا نیوٹرینٹس کے جسم سے ضائع ہوجانے سے ہوتی ہے۔
جواب :-
میل نیوٹریشن کی اقسام لکھیں۔
سوال :
میل نیوٹریشن کی اہم اقسام درج ذیل ہیں۔
1۔ پروٹین۔انرجی میل نیوٹیریشن  
2۔ منرلز کی کمی کی بیماریاں
3۔ زیادہ نیوٹرینٹس  لے لینا
جواب :-
پروٹین۔انرجی میل نیوٹیریشن  کی بیماری کے بارے میں لکھیں۔ 
سوال :
پروٹین۔انرجی میل نیوٹیریشن  :- پروٹین۔انرجی میل نیوٹیریشن   سے مراد جسم میں انرجی اور پروٹینز کی ناکافی دستیابی یا ناکافی ایبزارپشن ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ بچوں کی موت کی بڑی وجہ ہے۔
جواب :-
کوشیارکر کونسی بیماری ہے؟
سوال :
کوشیارکر :- یہ  تقریباً 12 ماہ کی عمر میں پروٹین کی کمی سے ہوتی ہے جب بچہ ماں کا دودھ چھوڑتا ہے ۔ اس کے بعد یہ بیماری بچہ کی گروتھ کی عمر کے دوران بھی ہو سکتی ہے۔ اس میں بچے کا قد تو نارمل ہوتا ہے لیکن وہ غیر معمولی طور پر دُبلا ہوجاتا ہے۔
جواب :-
سوکھے پن کی بیماری یعنی میرازمس کی بیماری کے بارے میں بتائیں۔
سوال :
سوکھے پن کی بیماری یعنی میرازمس :- یہ بیماری عام طور پر 6 ماہ سے ایک سال کی عمر کے دوران ہوتی ہے۔ مریض بچے کے مسلز کی تمام مضبوطی ختم ہوجاتی ہےاور وہ ایک ڈھانچے  کی طرح رہ جاتا ہے۔ ایسے بچوں میں گروتھ متاثر ہوتی ہے۔ اور وہ اپنی عمر سے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔
جواب :-
منرلز کی کمی کی بیماریں لکھیں۔
سوال :
منرلز کی کمی سےہونے والی بیماریں  انسانوں  میں کم ہوتی ہیں۔ 
1۔ گوائٹر :- گوائٹر کی وجہ لسم میں غذا کی کمی ہے۔ آئیوڈین کو تھائرائیڈگلینڈ نے وہ ہارمونز نبانے کیلئے استعمال کرنا ہوتا ہے جن سے جسم کی نارمل فعالیت اور گروتھ کنٹرول ہوتی ہے۔ اگر غذا میں کافی آئیوڈین جوجود نہ ہو تو تھائرائیڈگلینڈ سائز بڑھ جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں گردن میں سوجن ہوجاتی ہے۔ اس حالت کو گوائٹر کہتے ہیں۔
2۔ اینیمیا :- منرلز کی کمی سے ہونے والی بیماریوں میں سب سے عام ہے۔ اینیمیا کا مطلب  "خون کی کمی" ہے ۔ اس بیماری میں ریڈ بلڈسیلز کی تعداد نارمل سے کم ہوجاتی ہے۔ ہیموگلوبن مالیکیول کے مرکز میں آئرن ایٹم پایا جاتا ہے۔ اگر جسم کو مناسب مقدار میں آئرن دستیاب نہ ہوتو مناسب تعداد میں ہیموگلابن کے مالیکیول نہیں بنتے ۔ اس طرح جسم میں ریڈبلڈسیلز کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔ اس بیماری کا مریض کمزور ہوجاتا ہے اور اس کے سیلز کو آکسیجن کی فراہمی بھی کم ہوتی ہے۔
جواب :-
زیادہ نیوٹریشن لے لینا ایک بیماری ہے اس کے بارے میں لکھیں۔
سوال :
یہ بھی میل نیوٹریشن کی ایک قسم ہے جس میں نیوٹریشن مطلوبہ مقدار سے لے لئے جاتے ہیں ۔ جو نارمل گروتھ، ڈیویلپمنٹ اور میٹابولزم کیلئے ضروری ہیں۔
اثرات:- ضرورت سے زیادہ نیوٹرینٹس لینے سے صحت کے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں مثلاً زیادہ کاربوہائیڈریٹس اور لپڈز لینے سے موٹاپا، ڈایابیٹیز اور کارڈیوویسکولر بیماریاں ہوتی ہیں۔ 
جواب :-
ڈائی جیشن سے کیا مراد ہے؟
سوال :
ڈائی جیشن :- خوراک  میں موجود پیچیدہ مادوں کو توڑ کر سادہ مادوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ڈائی جیشن کا عمل بالکل کیویٹی اور معدہ میں ہوتا ہے۔
جواب :-
درج ذیل اصطلاحات کی وضاحت کریں۔
سوال :
خوراک کو منہ میں لے جانا ۔
انجیشن
1
جواب :-
پیچیدہ مادوں کو سادہ مادوں میں توڑنا ۔
ڈائی جیشن
2
ڈائی جسٹ ہونے والی خوراک کا خون اور لمف میں جذب ہونا ۔
ایبزارپشن
3
جذب شدہ خوراک کو جسم کے پیچیدہ مادوں میں تبدیل کرنا۔
ایسیمیلیشن 
4
ڈائی جسٹ نہ ہونے والی خوراک کو جسم سے باہر نکالنا۔
ڈیفیکیشن
5
پیری سٹالسس سے کیا مراد ہے؟
سوال :
پیری سٹالسس :- پیری سٹالسس خوراک کی اورل کیویٹی سے ریکٹم کی جانب حرکت ہے۔ پیری سٹالسس میں ایلمنٹری کینال کی دیواروں کے سموتھ مسل میں سکڑنے کی امواج ہیں۔
جواب :-
سفنکٹرز کے کیا مراد ہے؟
سوال :
سفنکٹر سے مراد ایسا سوراخ ہوتا ہے جس کو کھولنے اور بند کرنے کے کام مسلز کرتے ہیں ۔ کارڈیک سفنکٹرز معدہ اور ایسوفیگس کے درمیان  جبکہ پائی لورک سفنکٹرز معدہ اور سمال انٹسٹائن کے درمیان ہے۔
جواب :-
کائم کے کیا مراد ہے؟
سوال :
کائم :- معدہ میں روٹی اور گوشت کے نولے میں موجود سٹارچ اور پروٹینز غیر مکمل طور پر ڈائی جسٹ ہوجاتی ہے۔ اب خوراک ایک پتلے شوربہ کی شکل اختیار کرچکی ہے جسے کائم کہتے ہیں۔
جواب :-
ولائی کسے کہتے ہیں؟
سوال :
ولائی :- اندرونی دیواروں میں گول تہیں ہوتی ہیں جن پر بے شمار انگلی نما ابھارے ہوتے ہیں  جنہیں ولائی کہتے ہیں۔
جواب :-
ڈائیریا کی علامات لکھیں۔
سوال :
1۔ اسہال میں مریض کو بار بار پتلی دست آتی ہے۔
2۔ پیٹ میں درد، متلی اور قے بھی ہو سکتی ہے۔
جواب :-
ڈائیریا کی وجوہات لکھیں۔
سوال :
1۔ ڈائیریا کی اہم وجہ کولون سے ضرورت کے مطابق پانی خون میں جذب نہ ہونا ۔
2۔ اس کی وجوہات پینے کے صاف پانی کی کمی وائرل اور بیکٹیریل انفیکشنز ہیں۔
جواب :-
ڈائیریا  کا  علاج   اور بچاؤ   بیان کریں۔
سوال :
اگر مناسب خوراک اور پانی دیا جائے تو مریض چند ہی دنوں میں صحتیاب ہو سکتا ہے۔ لیکن میل نیوٹریشن کا شکار لوگوں میں بعض اوقات ڈائیریا سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے جسے ڈی ہائیڈریشن کہتے ہیں اور یہ حالاتِ زندگی کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ڈائیریا کے علاج میں پانی کے نقصان پورا کرنے کیلئے مناسب مقدار میں ضروری سالٹس اور نیوٹرینٹس ملا کر پینا چاہیے۔ اگر ڈائیریا کسی بیکٹیریکل انفیکشن کا نتیجہ ہو تو اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
بچاؤ  :- 1۔ ڈائیریا کے بچاؤ میں پانی اور نمکیات کی مناسب مقدار لینا چاہیے۔
2۔ کھانے کے اوقات میں باقاعدگی اور صفائی شامل ہے۔
جواب :-
قبض کی علامات اور وجوہات لکھیں۔
سوال :
علامات :- قبض ایسی حالت کا نام ہے جس میں مریض کا فضلہ سخت ہوجاتا ہے اور اس کا جسم کے اخراج بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
وجوہات :- 1۔ غذا میں ڈائیٹری فائبر کا کم لینا ۔
2۔ ڈی ہائیڈریشن ہوجانا ۔
3۔ اینس کے سفنکٹر کا زخمی ہونا ۔
4۔ ریکٹم کا اینس میں  ٹیومرز بن جانا۔
5۔ کولون سے پانی کی ضرورت سے زیادہ ایبزارپشن ہوجانا ۔
جواب :-
قبض کا علاج اور بچاؤ لکھیں۔
سوال :
علاج :- قبض کا علاج خوراک اور ورزش سے متعلق عادات بدلنے میں ہے۔ اس کیلئے ادویات جنہیں لیگزیٹز کہتے ہیں مثلاً پیرافن استعمال کی جاتی ہے۔
بچاؤ :- قبض سے بچنے کیلئے خوراک میں پانی اور ڈائیٹری فائبر ز کی مناسب مقدار ہونا ضروری ہے۔
جواب :-
السر کا تعارف اور اقسام لکھیں۔
سوال :
السر کا تعارف :- تیزابی گیسٹرک جوس کے بتدریج توڑنے کے باعث گٹ کی دیوار میں زخم ہوجانا، پیپٹیک السر یا سادہ الفاظ میں السر کہلاتا ہے۔
اقسام :- معدہ کے السر کو گیسٹرک السر کہتے ہیں۔ اس کی وجوہات میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کا زیادہ بننا ، انفیکشن ہوجانا، طویل عرصہ تک ایسپریشن اور دوسری اینٹی اینفلیمیٹری  ادویات کا استعمال، تمباکو نوشی، کافی اور کولاز کا زیادہ پینا اور مصالہ دار خوراک کھانا  شامل ہے۔
السر کی علامات، علاج اور بچاؤ تحریر کریں۔
علامات:- 1۔ السر کی بڑی علامت کھانے کے بعد اور آدھی رات  کے وقت پیٹ میں جلن ہونا۔
2۔ شدید السر میں پیٹ میں درد ، معدہ سے خوراک کے دوبارہ منہ میں آنے کے بعد بہت زیادہ سلائیو ا نکلنا ۔
3۔ متلی ، بھوک ختم ہوجانا اور وزن میں کمی ہے۔
علاج   :- السر کے علاج میں ایسی ادویات شامل ہیں جو گیسٹرک جوس کے تیزابی اثرات کو نیوٹرلائیز کرتی ہیں۔
بچاؤ  :- مصاکہ دار اور زیادہ تیزابیت والی خوراک سے اجتناب برتنا ہے۔
2۔ تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
جواب :-
اگر ہم خوراک  میں سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز زیادہ لیتے ہیں تو صحت کو کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟
سوال :
اگر ہم خوراک  میں سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز زیادہ لیتے ہیں تو  یہ کولیسٹرول لیول بڑھ جانے کا باعث بن جائے گا۔ کولیسٹرول کا زیادہ ہوجانا  آرٹریز میں رکاوٹ اور دل کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
جواب :-
وائٹامن A  کی کمی سے اندھاپن کیسے ہوجاتا ہے؟
سوال :
وائٹامن A کی کمی سے روڈآپسن (آنکھ کے ریٹینا میں موجود پروٹین + وائٹامن A) کی کمی ہوجاتی ہے۔ اور کم روشنی میں نظر آنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ شب کوری (رات کو کم نظر آنا) کا اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ مستقل اندھے پن کی وجہ بن جاتا ہے۔
جواب :-
بولس اور کائم میں کیا فرق ہے؟
سوال :
میسٹی کیشن، لبریکیشن اور سیمی ڈائی جیشن کے دوران زبان خوراک کو گھماتی ہے جس سے چھوٹے چھوٹے پھسلنے والے گول ٹکڑوں میں تبدیل ہوجاتی ہے اسے بولس کہتے ہیں۔ جبکہ معدہ میں خوراک میں موجود سٹرچ اور پروٹینز کی غیر مکمل ڈائی جیشن اسے  پتلے شوربے میں بدل دیتی ہے جسے کائم کہتے ہیں۔
جواب :-
خوراک کی معدہ کے اندر اور یہاں سے باہر جانے میں کونسے سفنکٹرز کردار ادا کرتے ہیں؟
سوال :
پائی لورک سفنکٹرز اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جواب :-
معدہ ڈائی جیسٹو سسٹم کا ایک آرگن ہے مگر ایک ہارمون بھی خارج کرتا ہے یہ کونسا ہورمون ہے اور اس کا کیا کام ہے؟
سوال :
یہ گیسٹرن ہارمون خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون خون میں داخل ہوکر جسم کے تمام حصوں میں جاتا ہے۔ معدہ میں اس کے مخصوص اثرات ہوتے ہیں اور گیسٹرک گلینڈ کو مزید گیسٹرک جوس نکالنے کیلئے تحریک دیتا ہے۔
جواب :-
ایمائی لیز سے کیا مراد ہے؟
سوال :
ایمائی لیز سیلائیوا (تھوک) میں موجود ایک اینزائم ہے۔ جو خوراک میں موجود سٹارچ  کی سیمی ڈائی جیشن  کرتا ہے۔ اس کی مدد سے سٹارچ کی کیمیکل ڈائی جیشن شروع ہوتی ہے۔
جواب :-
کارڈیک سفنکٹر سے کیا مراد ہے؟
سوال :
کارڈیک سفنکٹر :- کارڈیک سفنکٹر  ایک سوراخ ہے جو معدہ کو ایسوفیگس سے ملاتا ہے۔ سفنکٹر کے کھلنے اور بند ہونے  کا کام مسلز کرتے ہیں۔ جب خوراک ایسوفیگس سے سٹومک میں آتی ہے تو کارڈیک سفنکٹرز اوپن ہوجاتے ہیں۔ سٹومک میں خوراک آجانے کے بعد سفنکٹر بند ہوجاتا ہے تاکہ خوراک واپس نہ آسکے۔
جواب :-
ڈائی جیشن سے کیا مراد ہے؟
سوال :
ڈائی جیشن :- خوراک میں موجود بڑے پیچیدہ اور ناقابلِ نفوذمادوں کو چھوٹے اور قابلِ  تنفوذ مادوں میں تبدیل کرنا ڈائی جیشن کہلاتا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں۔
1۔ کیمیکل ڈائی جیشن                      2۔ مکینیکل ڈائی جیشن
جواب :-
فرٹیلائزرز سے کیا مراد ہے؟
سوال :
فرٹیلائزرز :- ایسے کیمیکل مٹیریلز جو جو پودوں میں پسندیدہ خواص مثلاً زیادہ پھل، تیز گروتھ، بہتر رنگ، زیادہ پھول حاصل کرنے کیلئے مٹَی میں شامل کیے جائیں۔ فرٹیلائزر کہلاتے ہیں۔  اس میں آرگینک ، ان آرگینک اور قدرتی فرٹیلائزر شامل ہیں۔
جواب :-
جیجونم سے کیا مراد ہے؟
سوال :
جیجونم :- سمال انٹسٹائن کا دوسرا حصہ جیجونم ہے۔ پروٹینز ، سٹارچ اور لپڈز اورل کیویٹی ، معدہ اور سمال انٹسٹائن کے پہلے حصے میں ڈائی جیسٹ نہیں ہو سکتے۔ جیجونم میں انکی ڈائی جیشن ہوتی ہے۔ اسکی لمبائی 2.4 میٹر ہے۔
جواب :-
اپینڈکس سے کیا مراد ہے؟
سوال :
اپینڈکس :- اپینڈکس سیکم کے بند سرے سے نکلنے والی غیرفعال نالی ہے۔ کسی انفیکشن کی وجہ سے اس میں ہونےوالی انفلیمیشن سے شدید درد اٹھتا ہے چناچہ اس کو سرجری سے نکال دیا جاتا ہے ورنہ پھٹ سکتی ہے۔ اور انفلیمیشن پورے ایبڈامن میں پھیل کر  موت کا سبب بن سکتی ہے۔
جواب :-
ایملسی فیکیشن سے کیا مراد ہے؟
سوال :
ایملسی فیکیشن :- جگر کی رطوبت بائل میں موجودبائل سالٹس لپڈز کے مالیکیول کو چھوٹے مالیکیولز میں توڑتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ رکھتے ہیں۔ اس عمل کو ایملسی فیکیشن کہتے ہیں۔
جواب :-
گیسٹرن سے کیا مراد ہے؟
سوال :
گیسٹرن :- گیسٹرن ہارمونز میں ہوتا ہے جو خون میں داخل ہوکر معدہ سیت جسم کے تمام حصوں میں جاتا ہے۔ معدہ میں یہ گیسٹرک گلینڈز کے سیلز پر مزید گیسٹرک جوس نکالنے کیلئے اثر ڈالتا ہے۔
جواب :-
ایسیمی لیشن سے کیا مراد ہے؟
سوال :
ایسیمی لیشن :- جذب شدہ سادہ مادوں کو جسم کے پیچیدہ مادوں میں تبدیل کرنا ایسیمی لیشن کہلاتا ہے۔ ہم جو خوراک کھاتے ہیں اس کے ہاضمے کے عمل میں خوراک کو پیچیدہ سے سادہ مالیکیول میں توڑا جاتا ہے۔ سادہ مالیکیول خون کی نالیوں میں جذب ہوکر خون کا حصہ بنتے ہیں وہاں سے انہیں دوبارہ پیچیدہ مالیکیولز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ جسے ایسیمی لیشن کہتے ہیں۔
جواب :-
ایپی گلاٹس سے کیا مراد ہے؟
سوال :
ایپی گلاٹس :- ایپی گلاٹس کارٹیلیج کا بنا ہوا پردہ ہے جب بولس منہ سے فیرنکس میں جاتا ہےتو ایپی گلاٹس ٹریکیا کے سوراخ یعنی گلاٹس کے اوپر آجاتا ہے تاکہ خوراک ٹریکیا میں نہ جاسکے ۔ بعض اوقات اگر  ہم کھانے کے دوران باتیں کر رہے ہوں تو خوراک ٹریکیا میں چلی جاتی ہے۔ جس سے کھانسی شروع ہوجاتی ہے۔ 
جواب :-
لیگزیٹوز سے کیا مراد ہے؟
سوال :
لیگزیٹوز :- لیگزیٹوز ایسی دائیاں ہیں جو قبض کو ختم کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اسکی مثال پیرافن ہے۔ لیکن اگر لیگزیٹوز کا زیادہ استعمال کیا جائے تو انسانی جسم کو اسکی عادت ہوجاتی ہے۔ اور قدرتی طور پر پیری سٹالسس کاعمل رک جاتا ہے۔
جواب :-
قحط سے کیا مراد ہے؟
سوال :
قحط :- قحط سے مراد کسی علاقے میں انسانوں کیلئے خوراک کا نہ ہونا ہے۔ یہ ایک معاشی اور معاشرتی بحران ہے جس کا نتیجہ فاقہ کشی ہونا اور پھر شرح اموات کا زیادہ ہونا ہے۔ قحط کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
1۔ جنگیں اور گمراہ کن پالیسیاں      2۔ خوراک کی غیر مساوی رقسیم       3۔ خشک سالی     4۔ سیلاب      5۔ آبادی میں اضافہ
جواب :-
لائی پیز سے کیا مراد ہے؟
سوال :
لائی پیز :- لائی پیز لپڈز کو ڈائی جسٹ کرنے والا اینزائم ہے۔ چھوٹی آنت کے  گلینڈ پنکریاز کی رطوبت پنکریاٹک جوس میں موجود ہوتا ہے۔ اور لپڈز کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جواب :-
انٹسٹائل جوس سے کیا مراد ہے؟
سوال :
انٹسٹائل جوس :- سمال انٹسٹائل کے حصے ڈیوڈینم کی رطوبت ہے۔ انٹسٹائن کی دیواروں سے خارج ہوتی ہے اور تمام قسم کی نکمل ڈائی جیشن کیلئے بہت سے اینزائمز موجود ہوتے ہیں۔ جو خوراک کو مکمل طور پر ہضم کر دیتے ہیں۔
جواب :-
پنکریاٹک جوس سے کیا مراد ہے؟
سوال :
پنکریاٹک جوس :- پیکریاز سے خارج ہونےوا لی رطوبت ہے۔ اس میں اینزائمز موجود ہوتے ہیں۔ جس میں سے ٹرپسن پروٹینز کو پنکریاٹک ایمائی لیز کاربوہائیڈریٹس کو اور لائیپیز لپڈز کو ڈائی جسٹ کرتا ہے۔
جواب :-
ریکٹم سے کیا مراد ہے؟
سوال :
ریکٹم :-
          : ریکٹم لارج انٹسٹائن اور ایلمنٹری کینال کا آخری حصہ ہے۔ فضلہ کو ریکٹم میں ذخیرہ کیا جاتا ہےجو اینس کے ذریعے جسم سے باہر کھلتا ہے۔
جواب :-
پیپسن سے کیا مراد ہے؟
سوال :
پیپسن :-
          : گیسٹرک جوس میں پایا جانے والا اینزائم جو پروٹین ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ غیر فعال شکل پیپسینوجن میں ہوتا ہے۔ جو ہائیڈروکلورک ایسڈ کی مدد سے فعال حالت میں آجاتا ہے۔
جواب :-
سیلائیوا سے کیا مراد ہے؟
سوال :
سیلائیوا  :-
           : سیلائیوا منہ میں موجود سیلائیوری  گلینڈ کی رطوبت ہے۔ سیلائیوا خوراک میں پانی اور میوکس ڈالتا ہے تاکہ خوراک کی لبریکیشن ہو اور آسانی سے ایسوفیگس سے گزرسکے ۔ اس کے علاوہ سیلائیوا میں اینزائم ایمائی لیز ہوتا ہے۔  جو خوراک میں موجود سٹارچ کی ڈائی جیشن کرتا ہے۔
جواب :-
فیرنکس سے کیا مراد ہے؟
سوال :
فیرنکس :-  
           : فیرنکس حلق کو کہتے ہیں۔ نگلے جانے کے بعد بولس فیرنکس کے ذریعے ایسوفیگس میں جاتا ہے۔ فیرنکس خاص  مطابقتیں رکھتا ہے تاکہ بولس کا کوئی ٹکڑا نگلے جانے کے دوران ہوا کی نالی یعنی ٹریکیا میں نہ جا سکے۔
جواب :-
ٹرپسن سے کیا مراد ہے؟
سوال :
رپسن :- ٹرپسن پنکریاز کی رطوبت ہے جوسمال انٹسٹائن کے ڈیوڈینم میں خارج ہوتی ہے۔ اور پروٹینز کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
جواب :-
پائی لورک سفنکٹرک سے کیا مراد ہے؟
سوال :
پائی لورک سفنکٹر :-
                        : معدہ اور سمال انٹسٹائن کے درمیان موجود سوراخ کو پائی لورک سفنکٹر کہتے ہیں۔ یہ خوراک کی یکطرفہ حرکت کا باعث بنتا ہے۔ یعنی جب خوراک معدہ سے چھوٹی آنت میں جاتی ہو تو پائی لورک سفنکٹر کھل جاتا ہے۔  اس کے کھلنے اور بند ہونے کو مسلز کنٹرول کرتے ہیں۔
جواب :-




































Post a Comment

0 Comments